میاں منظور احمد وٹو کی یاد میں لاہور میں نیشنل پبلک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا، جس میں سیاسی رہنماؤں، سینئر صحافیوں، دانشوروں، ادیبوں اور مرحوم کے اہلِ خانہ نے شرکت کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی سیاسی خدمات، جمہوری کردار اور قومی یکجہتی کے لیے ان کی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب سے سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور، سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، خرم نواز گنڈاپور اور معروف ادیب سعید آسی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر معظم وٹو، خرم وٹو، جہاں آراء وٹو، عائشہ وٹو، محمد اکرم چودھری اور مدثر اقبال نے بھی مرحوم سے وابستہ یادیں اور تاثرات بیان کیے۔
مقررین نے کہا کہ میاں منظور احمد وٹو اپنی سیاسی بصیرت، رواداری، وضع داری اور شائستہ طرزِ سیاست کی بدولت تمام سیاسی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ مفاہمت، برداشت اور جمہوری روایات کو فروغ دیا۔
اجلاس کے دوران سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو متفقہ طور پر نیشنل پبلک فورم کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ فورم کو میاں منظور احمد وٹو کے وژن، اصولوں اور قومی خدمت کے مشن کے مطابق مزید فعال بنایا جائے گا۔
چودھری محمد سرور نے کہا کہ میاں منظور احمد وٹو کی رواداری، وضع داری اور اعلیٰ اخلاق کے اپنے اور مخالف سب معترف تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں قومی مفاد، برداشت اور جمہوری اقدار کو مقدم رکھا۔
سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ میاں منظور وٹو سخت ترین تنقید بھی تحمل سے سنتے تھے اور کبھی اپنے چہرے پر ناگواری ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ آج کی سیاست میں میاں منظور احمد وٹو جیسے مدبر، مفاہمت پسند اور دور اندیش رہنما کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
تقریب کے اختتام پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی۔ حفیظ اللہ نیازی، ڈاکٹر صغریٰ صدف، نوراللہ صدیقی، خالد فاروقی، انور سمرا اور خاور سلیم سمیت شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میاں منظور احمد وٹو کے جمہوری وژن، رواداری اور قومی خدمت کے فلسفے کو آئندہ بھی فروغ دیا جائے گا۔