پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں پاکستانی فضائی حملے دو مقامات پر دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کیے گئے، جن میں 22 دہشت گرد مارے گئے۔ کارروائی کو خفیہ معلومات کی بنیاد پر منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ کارروائی آپریشن غضب لِلحق کے تحت کی گئی۔ وزارت نے کہا کہ اہداف کا تعلق فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور ان کے ساتھی عناصر سے تھا۔
وزارت کے مطابق دہشت گردوں کے کیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں سے متعلق قابل اعتماد معلومات حاصل ہونے کے بعد اہداف کا تعین کیا گیا۔ کارروائی میں مبینہ ٹھکانوں پر موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔
پاکستان نے کہا کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم شہریوں کی سلامتی اور قومی تحفظ اس کی اولین ترجیح ہیں۔ وزارت نے افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
وزارت کے مطابق افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے دوران ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی اقدامات کیے گئے۔ حکومت نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دریں اثنا، خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر کارروائی کی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق کئی ٹھکانے اور سرنگیں تباہ کی گئیں جبکہ بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد ہوا اور متعدد دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔
بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے سنی میں بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران چھ دہشت گرد مارے گئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔