چین نے امریکا کی جانب سے نئی تجارتی پابندیوں کے اعلان کے بعد جوابی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تازہ صورتحال میں چین امریکا تجارتی پابندیاں تنازع مزید نمایاں ہو گیا ہے، جس میں ڈرون برآمدات پر کنٹرول اور امریکی کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔
چینی وزارت تجارت کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے چین کے جائز حقوق اور مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ بیجنگ نے کہا کہ صورتحال کے جواب میں ضروری اقدامات کیے جائیں گے، جن میں امریکا کو ڈرونز، ان کے اہم پرزوں اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی برآمدات پر مزید کنٹرول شامل ہے۔
چین نے تجارتی اور سرٹیفکیشن کے شعبے میں بھی نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق چینی سرٹیفکیشن ادارے بعض معاملات میں فیکٹری معائنوں کا عمل روک دیں گے جبکہ چند امریکی کمپلائنس ٹیسٹنگ کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔
بیجنگ نے چھ امریکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن میں بائیوٹیکنالوجی اور تحقیق سے متعلق ادارے شامل ہیں۔ چینی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے سنکیانگ سے متعلق امریکی پابندیوں کی حمایت کی، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔
چین امریکا تجارتی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا نے چین سمیت 59 ممالک پر نئے محصولات عائد کیے ہیں۔ چین نے امریکی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اور عالمی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
چین کے اعلیٰ تجارتی عہدیدار ہی لائفنگ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے گفتگو کے دوران حالیہ پابندیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ چینی حکام اس سے قبل بھی امریکا پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ چینی کمپنیوں کی ترقی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان حالیہ اقدامات نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان عارضی تجارتی مفاہمت ہوئی تھی، تاہم نئی پابندیوں کے بعد عالمی سطح پر دوبارہ تجارتی تنازع بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔