غزہ امن منصوبے

حماس غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کیلئے تیار، اسرائیل پر دباؤ کا مطالبہ

حماس نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کرتے ہوئے امریکا سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم تازہ اختلافات کے باعث منصوبے کے اگلے مرحلے پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

حماس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ گروپ اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے ثالثوں کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے اور دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم اس کے لیے اسرائیل کی منظوری اور عملدرآمد شروع کرنا ضروری ہوگا۔

مجوزہ غزہ امن منصوبے کے تحت حماس اپنے ہتھیار ایک نئی فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرے گی۔ منصوبے میں غزہ کے مختلف علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی تجویز بھی شامل ہے۔

حماس نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی پاسداری اور دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت کے لیے مجبور کرے۔ گروپ کے مطابق اسرائیل کی منظوری اور وعدوں پر عملدرآمد کے بعد اگلا مرحلہ شروع کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے بورڈ آف پیس کی جانب سے پیش کیے گئے تازہ مسودے سے اتفاق نہیں کیا۔ اس مؤقف نے حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی انخلا کے معاملے پر مذاکرات مزید پیچیدہ کردیئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل حماس کی جانب سے مبینہ طور پر غیر مسلح ہونے پر رضامندی کو اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ تاہم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے نمائندے نکولے ملاڈینوف نے کہا کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی انخلا کرے گا۔

غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں ان کی شدت میں کمی دکھائی دی ہے۔ موجودہ صورتحال میں غزہ امن منصوبہ ایک بڑے تعطل کا شکار ہے، جہاں حماس عملدرآمد چاہتی ہے جبکہ اسرائیل غیر مسلح ہونے اور فوجی انخلا سے متعلق اہم شرائط پر اختلاف رکھتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین