ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایران امریکا جنگ بندی میں توسیع کیلئے کوئی بات چیت نہیں ہورہی، جس سے نئی جنگ بندی کی اطلاعات پر سوال اٹھ گئے ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کے مؤقف کے مطابق سابقہ معاہدے کا کوئی باقاعدہ آغاز نہیں ہوا تھا، اس لیے اس میں توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہ بیان ترک خبر ایجنسی انادولو کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں پاکستانی حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ایران اور امریکا نے جون میں ہونے والے عبوری معاہدے کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا نے معاہدے پر اتفاق کے 48 گھنٹے بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی اور چند روز بعد اس سے دستبردار ہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 جولائی کو معاہدے کو ختم قرار دیا تھا۔
معاہدے میں 60 روزہ مدت ایران اور امریکا کے درمیان وسیع تر معاہدے کیلئے مذاکرات کا فریم ورک تھی۔ اس دوران ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور امریکی پابندیاں اٹھانے سے متعلق معاملات طے کیے جانے تھے۔
مزید مذاکرات کیلئے بعض شرائط بھی اہم سمجھی گئی تھیں، جن میں لبنان میں جنگ بندی، خلیج میں آزادانہ آمدورفت اور ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت سے متعلق انتظامات شامل تھے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے امریکا کی عبوری معاہدے میں واپسی اور وعدوں پر عملدرآمد کیلئے مدت طے کرنے پر بات ہورہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جس سے ایران امریکا جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی ہے۔