ایران نے ایران مخالف قرارداد کی حمایت پر سعودی عرب، اردن اور جاپان کو ایران کی سعودی عرب کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں ممالک کو اپنے فیصلے کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں یہ مؤقف ظاہر کیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ غیر ملکیوں کی موجودگی کے بغیر مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات میں مختلف ممالک کو مذاکرات کے لیے قائل کرنے کی کوشش کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔
ایرانی ترجمان نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ تینوں ممالک کو کس نوعیت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بقائی نے موجودہ صورتحال کو امن یا جنگ کے درمیان کیفیت قرار دینے کے بجائے کہا کہ ایران حالت جنگ میں ہے۔ ان کے مطابق سمندری پابندیاں اور ناکہ بندی جنگ کے مترادف ہیں اور موجودہ حالات میں ایران انہیں اسی تناظر میں دیکھتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران جو کچھ بھی کرتا ہے، اسے دفاع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق تہران اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کررہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کی ذمہ داری امریکا پر عائد کی جانی چاہیے، جسے انہوں نے موجودہ علاقائی صورتحال سے جوڑا۔
ایرانی ترجمان کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اور خطے کے بعض ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کی سعودی عرب کو وارننگ کے ساتھ اردن اور جاپان کا ذکر بھی سفارتی اختلافات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق بیان نے صورتحال کے وسیع تر اثرات کو نمایاں کیا ہے۔