غزہ امدادی فلوٹیلا کارکنان اسرائیل کے معاملے نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے جب اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ دو کارکنان کو سمندر میں روکی گئی امدادی مہم کے دوران حراست میں لے کر تفتیش کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت سیف ابو کسک اور تھیاغو آویلا کے نام سے ہوئی ہے۔ انہیں سمندر میں آپریشن کے دوران روکا گیا اور بعد میں تفتیش کے لیے لے جایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایک ایسے ادارے سے وابستہ ہیں جس پر امریکہ نے بھی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اسرائیل کے مطابق یہ تنظیم غزہ کی طرف جانے والی امدادی مہمات سے جڑی ہوئی ہے۔
غزہ امدادی فلوٹیلا کارکنان اسرائیل واقعہ اس بڑی کارروائی کا حصہ ہے جس میں پچاس سے زائد کشتیوں کو روکا گیا۔ یہ قافلہ مختلف یورپی ممالک سے روانہ ہوا تھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً ایک سو پچھتر کارکنان کو مختلف کشتیوں سے اتارا گیا جبکہ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر غزہ کی سمندری حدود پر کنٹرول رکھتا ہے، تاہم انسانی تنظیمیں اس ناکہ بندی کو امداد کی فراہمی میں رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔
غزہ امدادی فلوٹیلا کارکنان اسرائیل واقعے پر عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے اور مختلف ممالک نے انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا ہے۔