خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میں 3 ارب 58 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ جاری

پشاور: خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے دوران مختلف سرکاری محکموں کے مالی معاملات کے آڈٹ میں 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور مشکوک اخراجات کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں سرکاری ٹھیکوں کی منظوری، ترقیاتی منصوبوں کی ادائیگیوں اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق متعدد اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک ارب 20 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے ٹھیکوں کی منظوری میں مشکوک اور غیر شفاف طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ اسی طرح ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں میں 90 کروڑ 81 لاکھ روپے سے زائد کی اضافی ادائیگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے سرکاری مالیاتی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

آڈٹ حکام نے 60 کروڑ روپے سے زائد کے غیر مجاز اخراجات کی بھی نشاندہی کی۔ مزید برآں، ٹھیکیداروں کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کارروائی نہ کیے جانے کے باعث 37 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد کے مالی نقصانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈٹ سال 2024-25 کے دوران قواعد و ضوابط کی پابندی سے متعلق آڈٹ کے پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 28 پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران (PAOs) کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، جن میں سے 14 انتظامی محکموں کا آڈٹ مکمل کیا گیا۔

رپورٹ میں سرکاری فنڈز کے استعمال، ٹھیکوں کی منظوری، ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات اور مالیاتی قواعد پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ کے دوران مختلف محکموں میں مالیاتی نگرانی اور شفافیت کے حوالے سے خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

دوسری جانب آڈٹ رپورٹ کے مطابق جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 11 کروڑ 70 لاکھ 9 ہزار روپے کی ریکوری بھی کی گئی، جس کی آڈٹ حکام نے تصدیق کردی ہے۔ یہ ریکوری آڈٹ کے دوران سامنے آنے والے مالی معاملات کے تناظر میں کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین