انقرہ نیٹو اجلاس

انقرہ میں نیٹو اجلاس، ٹرمپ کے سخت مؤقف نے توجہ سمیٹ لی

انقرہ نیٹو اجلاس ایسے وقت میں شروع ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، گرین لینڈ اور یورپی دفاعی اخراجات سے متعلق اپنے سخت مؤقف کو دوبارہ دہرایا۔ نیٹو کے 32 رکن ممالک کے رہنما ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں اتحاد کو درپیش سکیورٹی اور دفاعی چیلنجز پر غور کے لیے جمع ہوئے۔

انقرہ پہنچنے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ وہ ترک صدر رجب طیب اردوان سے ذاتی تعلقات کی وجہ سے اجلاس میں شریک ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکہ مستقبل میں یورپ سے مزید فوجی انخلا پر غور کر سکتا ہے، جبکہ یورپی ممالک کو اپنی دفاعی ذمہ داریاں بڑھانے پر زور دیا۔

اجلاس سے قبل نیٹو نے کم از کم 50 ارب ڈالر مالیت کے نئے دفاعی معاہدوں کا اعلان کیا۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ مشترکہ سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور امریکہ پر انحصار کم ہو۔

ٹرمپ نے حالیہ ایران تنازع کے دوران نیٹو اتحادیوں کی حمایت پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہمیشہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے، تاہم اہم مواقع پر یورپی ممالک نے واشنگٹن کی توقعات کے مطابق تعاون نہیں کیا۔

امریکی صدر نے اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور ایران کے معاملے پر اختلافات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی خواہش ظاہر کی، جس پر ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے واضح کیا کہ گرین لینڈ ڈنمارک کی خودمختاری کا حصہ ہے اور فروخت کے لیے دستیاب نہیں۔

دوسری جانب نیٹو کے سفیروں نے ایک مشترکہ اعلامیے کے مسودے کی منظوری دی، جس میں اجتماعی دفاع کے عزم کو برقرار رکھنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ بدھ کو ہونے والے مرکزی اجلاس میں تمام رہنما اس اعلامیے کی باضابطہ توثیق کریں گے۔

یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مضبوط شراکت داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق نیٹو کا اتحاد موجودہ عالمی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ اہم ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین