خام تیل کی قیمتیں

ٹینکرز پر حملوں سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات اور ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث بڑھ گئی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔

برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.45 ڈالر، یعنی 1.67 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 88.52 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.15 ڈالر اضافے کے بعد 82.40 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ مارکیٹ میں تازہ تیزی علاقائی سلامتی کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔

ہفتہ وار بنیاد پر بھی دونوں اہم آئل بینچ مارکس میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔ برینٹ خام تیل میں تقریباً 6 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 5.4 فیصد تک ہفتہ وار اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں پر اضافی دباؤ پیدا کیا ہے۔

آئل مارکیٹ کے ماہر اینڈریو لیپوو نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ نئے ٹینکر حملوں کی اطلاعات اور جنگ بندی کے معاہدے پر پیش رفت نہ ہونے کے بعد ہفتے کے اختتام پر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔ مارکیٹ میں ممکنہ سپلائی رکاوٹ کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں رسک پریمیم بھی شامل ہوگیا ہے۔

عالمی توانائی کی منڈی کے لیے آبنائے ہرمز کی صورتحال خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک اہم بحری راستہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے پر بحری آمدورفت میں طویل رکاوٹ عالمی سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود رہی تو موجودہ صورتحال ایک بڑے توانائی بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ ٹینکرز کی نقل و حرکت میں کمی سے خام تیل کی دستیابی، نقل و حمل کے اخراجات اور عالمی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین