پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے پاکستان ترکیہ غزہ مذاکرات میں غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور مسجد اقصیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بحران کا پائیدار حل صرف سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ممکن ہے۔
پاکستان ترکیہ غزہ مذاکرات کے دوران اردن کی اس تجویز پر بھی گفتگو ہوئی جس میں عرب اور اسلامی ممالک کا مشترکہ اجلاس بلانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس اجلاس کا مقصد فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے سفارتی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں مبینہ خلاف ورزیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر بھی تشویش ظاہر کی۔ متعدد عرب اور فلسطینی اداروں نے بھی عالمی برادری سے فوری اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke with the Foreign Minister of Türkiye, H.E. Hakan Fidan.
The two Foreign Ministers exchanged views on recent regional and international developments, with particular focus on the grave situation… pic.twitter.com/D3wueTguIY
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 30, 2026
پاکستان نے حالیہ دنوں میں فلسطین کے معاملے پر علاقائی ممالک سے مسلسل رابطے برقرار رکھے ہیں۔ ایک روز قبل اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی گفتگو کی تھی، جس میں فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا۔
غزہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تازہ اسرائیلی حملوں میں مزید فلسطینی شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ مختلف علاقوں میں ڈرون حملوں اور گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی کارروائیاں جاری رہیں، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
پاکستان ترکیہ غزہ مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور انقرہ فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔