پاکستان نے غزہ امن منصوبے کے تحت ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدامات خطے میں امن، استحکام اور سیاسی حل کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد کی حمایت کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اپنے بیان میں امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ یہ پیش رفت غزہ امن منصوبے کے تمام وعدوں پر مکمل عملدرآمد میں مددگار ثابت ہوگی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان سفارتی کوششوں سے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی عمل قابلِ اعتماد، مقررہ مدت پر مبنی اور بین الاقوامی قانون، عالمی اصولوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس عمل کا اختتام ایک آزاد، خودمختار، جغرافیائی طور پر متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام پر ہونا چاہیے۔ پاکستان نے ایک بار پھر اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا کہ فلسطینی ریاست 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
🔈 PR No. 1️⃣9️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Welcomes Positive Developments Towards the Implementation of the Gaza Peace Plan
🔗⬇️ pic.twitter.com/6O8SrLWcs1
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 1, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں غزہ امن منصوبے میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے اہم پیش رفت قرار دیا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اب تمام طے شدہ وعدوں پر عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور پرامن سیاسی حل کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان نے غزہ امن منصوبے کا خیرمقدم کیا اور ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ وہ دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کے مطابق فلسطین کا مسئلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام قائم ہو سکے۔