پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بہتری سامنے آئی ہے۔ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان کا گرین پاسپورٹ دو درجے ترقی کرتے ہوئے 103ویں سے 101ویں نمبر پر آ گیا ہے، تاہم یہ اب بھی دنیا کے نسبتاً کمزور پاسپورٹس میں شمار ہوتا ہے۔
تازہ درجہ بندی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری اب 29 ممالک یا خطوں میں بغیر پیشگی ویزا یا ویزا سے متعلق آسان سفری سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں، جس سے بین الاقوامی سفر کے مواقع میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔
ہینلے اینڈ پارٹنرز کی جانب سے ہر سال جاری کیے جانے والے پاسپورٹ انڈیکس میں دنیا کے 199 پاسپورٹس اور 227 سفری مقامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس درجہ بندی کا مقصد مختلف ممالک کے پاسپورٹس کی عالمی سفری رسائی کا تقابلی جائزہ پیش کرنا ہے۔
اس انڈیکس میں کسی بھی پاسپورٹ کی طاقت کا اندازہ اس بنیاد پر لگایا جاتا ہے کہ اس کے حامل افراد کتنے ممالک یا خطوں میں بغیر پیشگی ویزا، ویزا آن ارائیول یا دیگر آسان سفری سہولتوں کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق ویزا پالیسیوں میں تبدیلی اور سفری پابندیاں وقتاً فوقتاً اس درجہ بندی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سنگاپور ایک بار پھر دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر برقرار ہے، جبکہ بھارت 81ویں نمبر پر موجود ہے۔ دوسری جانب افغانستان فہرست کے آخری نمبر پر ہے اور اس کا پاسپورٹ عالمی سطح پر سب سے کمزور تصور کیا جاتا ہے۔