اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ہونے والی المناک آتشزدگی کی پمز فائر پروب رپورٹ میں فائر سیفٹی اور طبی سہولیات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے تیار کی۔ کمیٹی نے رپورٹ وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کو پیش کی، جنہوں نے اسے وزیراعظم کو ارسال کردیا۔
رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئی اور اسے جاری کرنے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے۔ ذرائع کے مطابق غفلت کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی متوقع ہے۔
پمز فائر پروب میں کہا گیا ہے کہ اسپتال میں موجود فائر سیفٹی اور طبی انتظامات بین الاقوامی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ کمیٹی نے انتظامیہ، ڈاکٹروں، فائر فائٹرز اور ریسکیو اہلکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کے وقت ڈیوٹی سے غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔ اس سے قبل سی ڈی اے فائر ڈیپارٹمنٹ نے بھی ایک فائر ایگزٹ تک رسائی نہ ہونے کی نشاندہی کی تھی۔
واقعے اور امدادی کارروائی کے حوالے سے حکام کے بیانات میں اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آگ ایئر کنڈیشنر سے نکلنے والی چنگاری سے لگی ہوسکتی ہے، جبکہ پمز انتظامیہ نے فائر ایگزٹ بند ہونے کی تردید کی۔
پمز نرسری میں لگنے والی آگ سے 14 شیر خوار بچے جاں بحق ہوئے، جس کے بعد سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ پمز فائر پروب نے احتساب، بہتر ہنگامی نظام اور مؤثر فائر سیفٹی اقدامات کی ضرورت مزید نمایاں کردی ہے۔