صدر زرداری کا کرغزستان کا دورہ 6 جولائی سے شروع ہو رہا ہے، جہاں صدر آصف علی زرداری کرغزستان کے صدر صدر جباروف کی دعوت پر چار روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ گزشتہ 21 برسوں میں کسی پاکستانی صدر کا کرغزستان کا پہلا دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر زرداری ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے اور 9 جولائی تک کرغزستان میں قیام کریں گے۔ اس دوران ان کی صدر صدر جباروف سے ون آن ون ملاقات ہوگی، جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات ہوں گے جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزارت خارجہ نے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ دورہ دسمبر 2025 میں کرغز صدر کے پاکستان کے دورے کے بعد ہونے والی پیش رفت کا اہم حصہ ہے اور اس سے باہمی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، کان کنی، زراعت، ٹیکسٹائل، حلال صنعت، صحت، ادویات، ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ دونوں ممالک اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع پر بھی غور کریں گے۔
صدر زرداری اپنے دورے کے دوران کرغز پارلیمنٹ کے اسپیکر سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا مقصد پارلیمانی روابط کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
پاکستان اور کرغزستان اس سے قبل دوطرفہ تجارت کو 2027-28 تک 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کر چکے ہیں۔ دونوں ممالک نے تجارت، توانائی، کان کنی، زراعت، سیاحت، صحت، ثقافت، کسٹمز تعاون، CASA-1000 منصوبے اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔
صدر زرداری کا کرغزستان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سفارتی اور علاقائی تعاون کو نئی رفتار دینے کی توقعات پیدا کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ دورہ باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور وسطی و جنوبی ایشیا میں رابطوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔