روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے روسی تجارتی جہاز قبضے میں لیے گئے تو روس بھی جوابی کارروائی کرسکتا ہے۔
روسی خبر ایجنسی کے مطابق پیوٹن نے سخالین میں بحری فوجی مشقوں کا جائزہ لیتے ہوئے مغربی ممالک کے اقدامات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
پیوٹن نے کہا کہ یورپی اور مغربی ممالک نے روسی تجارتی جہاز قبضے میں لیے تو روس بھی اسی انداز میں جواب دینے پر مجبور ہوگا۔ ان کے مطابق روس مناسب اور ضروری مقام پر کارروائی کرے گا۔
روسی صدر نے مغربی ممالک پر روسی بحری جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ انہوں نے جہازوں کو قبضے میں لینے کے عمل کو بحری قزاقی قرار دیا۔
پیوٹن نے یہ بھی کہا کہ نیٹو ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں اپنی مداخلت بڑھا رہا ہے۔ ان کے مطابق آرکٹک میں بھی کشیدگی پیدا ہو رہی ہے، جس سے علاقائی سکیورٹی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں سویڈن، فرانس، برطانیہ اور بیلجیئم نے روس کے نام نہاد شیڈو فلیٹ سے منسلک بحری جہازوں کو روکا ہے۔ مغربی ممالک روس سے متعلق سمندری سرگرمیوں پر پابندیاں سخت کر رہے ہیں۔
امریکا نے بھی جنوری میں بحر اوقیانوس میں روسی پرچم والے ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا تھا۔ پیوٹن کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی تجارتی جہاز نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری رہا تو ماسکو جوابی اقدامات پر غور کرسکتا ہے۔