قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے راس لفان ایل این جی پیداواری مرکز سے متعلق جاری فورس میجر کی مدت میں مزید ایک ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ نئی مدت کے مطابق یہ پابندی اب اگست 2026 کے اختتام تک برقرار رہے گی، جس کے اثرات عالمی گیس مارکیٹ سمیت پاکستان کی توانائی ضروریات پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستان، جو اپنی قدرتی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قطر سے درآمد کی جانے والی ایل این جی پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے، اس توسیع کے باعث متبادل ذرائع سے گیس خریدنے پر مجبور ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی معاہدوں کے تحت کارگو کی محدود دستیابی کے نتیجے میں پاکستان کو اسپاٹ مارکیٹ سے نسبتاً زیادہ قیمت پر ایل این جی حاصل کرنا پڑ رہی ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اگر فورس میجر کی موجودہ مدت ستمبر 2026 میں ختم ہو جاتی ہے تو قطر کے ساتھ موجود طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کارگو کی معمول کے مطابق فراہمی دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے یہ بھی کہا کہ عالمی توانائی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی درآمدی لاگت پر پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو اس کا فائدہ صارفین تک منتقل کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
توانائی ماہرین کے مطابق آئندہ چند ماہ پاکستان کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ملک کو بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے درآمدی ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں دونوں کا سامنا ہے۔