سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ قوم کے فیصلے وہی لوگ کریں گے جنہیں عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے۔ انہوں نے خیراتی یا مصنوعی مینڈیٹ پر بیٹھے افراد کو قوم کے فیصلے کرنے کا حق نہیں دیا۔
سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرجیل میمن نے 18ویں آئینی ترمیم کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کے نتیجے میں صحت، تعلیم، توانائی اور دیگر شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے جناح اسپتال کی 18ویں ترمیم سے پہلے اور موجودہ صورتحال کا حوالہ بھی دیا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ آج ایسے افراد بھی 18ویں ترمیم پر لیکچر دے رہے ہیں جو ان کے بقول فارم 47 کی پیداوار ہیں۔
سینئر وزیر نے کہا کہ تھر سے ساڑھے 3 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے وسائل سے پیدا ہونے والی توانائی سے ملک کے مختلف حصے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے مصطفیٰ کمال، احسن اقبال اور خواجہ آصف سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ پارلیمنٹ میں اپنا مؤقف پیش کرے، جبکہ سندھ اسمبلی آئینی اور قانونی بنیادوں پر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
شرجیل میمن نے وفاقی وزرا سے کہا کہ پہلے عوام کے درمیان جائیں اور ووٹ لے کر منتخب ہوکر آئیں۔ ان کے مطابق عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد ہی قومی معاملات پر بات کرنے کا حق پیدا ہوتا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ قوم کے فیصلے وہی نمائندے کریں گے جنہیں عوام نے ووٹ کے ذریعے منتخب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی یا خیراتی مینڈیٹ رکھنے والے افراد قوم کے فیصلے نہیں کرسکتے۔