ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بیان منگل کو ایرانی سرکاری میڈیا کو دیا۔
قالیباف کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی، جب تک امریکا عبوری معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا۔ ان شرائط میں سمندری ناکہ بندی ختم کرنا بھی شامل ہے۔
ایرانی مذاکرات کار نے امریکی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کو بھی بحال کرنا ضروری ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش طویل ہونے سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔
ایران نے آبنائے کھولنے کو امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر پیش رفت سے جوڑ دیا ہے۔ تہران مخصوص اقدامات مکمل ہونے کے بعد ہی بحری راستہ کھولنے کا عندیہ دے رہا ہے۔
قالیباف کا بیان ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پابندیوں، جوہری سرگرمیوں اور اقتصادی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش طویل ہونے کی صورت میں عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ قالیباف نے آبنائے کھولنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی، تاہم فیصلہ امریکی اقدامات سے مشروط کیا ہے۔