او آئی سی خواتین کی ڈیجیٹل خودمختاری

او آئی سی کانفرنس: اعظم نذیر تارڑ کا خواتین کے لیے مساوی ڈیجیٹل مواقع پر زور

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ او آئی سی خواتین کی ڈیجیٹل خودمختاری کو فروغ دینے کے لیے خواتین اور بچیوں کو جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی فراہم کی جائے۔ اسلام آباد میں منعقدہ نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو مساوات کا ذریعہ بننا چاہیے، نہ کہ نئی ناہمواریوں کا سبب۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تیزی سے دنیا کو تبدیل کر رہی ہیں۔ اگر ان شعبوں میں دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کی جائے تو روزگار، صحت، کاروبار اور مالی شمولیت کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ عدم مساوات اور امتیاز میں اضافہ بھی کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کا بااختیار ہونا صرف سماجی ضرورت نہیں بلکہ معاشی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اس وقت تک اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا جب تک خواتین کو تعلیم، اختراع، روزگار اور قیادت کے مساوی مواقع میسر نہ ہوں۔

وزیر قانون نے کہا کہ مسلم خواتین نے تاریخ میں بطور عالمہ، معلمہ، کاروباری شخصیت، قانون دان اور سماجی رہنما نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی وہ سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، سفارت کاری، کاروبار اور سرکاری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں، اس لیے حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کا پلان آف ایکشن برائے ترقی خواتین اور ویمنز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن رکن ممالک کے درمیان تعاون کا مضبوط فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ بہترین تجربات کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون سے خواتین کی ترقی کی رفتار مزید تیز کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین اور حکومتی اصلاحات کے تحت خواتین کو بااختیار بنانا قومی ترجیح ہے۔ انہوں نے نیشنل جینڈر پالیسی فریم ورک 2025 اور وزیراعظم ویمن ایمپاورمنٹ پیکیج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد خواتین کی قیادت، مالی شمولیت، کاروباری مواقع، ڈیجیٹل رسائی، محفوظ کام کے ماحول اور انصاف تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

اپنی تقریر کے اختتام پر وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کانفرنس کی سربراہی کو ذمہ داری سمجھتے ہوئے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔ انہوں نے فلسطین خصوصاً غزہ، افغانستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین کی مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ او آئی سی خواتین کی ڈیجیٹل خودمختاری اس وقت مکمل ہوگی جب مساوی مواقع کے ساتھ تحفظ، وقار اور انصاف بھی یقینی بنایا جائے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین