یوکرین کا روس پر حملہ بدھ کو مزید شدت اختیار کر گیا جب صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرینی افواج نے روس کے شہر اوفا میں واقع آئل ریفائنری اور پینزا ریجن میں ایک اہم فوجی صنعتی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں روسی حملوں کے جواب میں جاری طویل فاصلے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یوکرین روزانہ روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے ان حملوں کو روس کی جانب سے جاری فوجی کارروائیوں کا "منصفانہ جواب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین اپنی دفاعی حکمت عملی جاری رکھے گا۔
یوکرین کے جنرل اسٹاف کے مطابق اوفا میں واقع آئل ریفائنری، جو محاذ جنگ سے تقریباً 1,300 کلومیٹر دور ہے، کو دوسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ پینزا ریجن میں تقریباً 600 کلومیٹر دور واقع ایک فوجی صنعتی مرکز پر بھی حملہ کیا گیا، جہاں یوکرین کے مطابق کروز اور بیلسٹک میزائلوں، طیاروں کے الیکٹرانک نظام اور جاسوسی سیٹلائٹس کے لیے پرزے تیار کیے جاتے ہیں۔
یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ تنصیب روس کی سرکاری خلائی ایجنسی روس کاسموس سے منسلک ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مقام کو نقصان پہنچنے سے روس کی جدید فوجی سازوسامان تیار کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
یوکرینی جنرل اسٹاف نے مزید بتایا کہ روس کے زیر قبضہ ڈونیٹسک اور لوہانسک کے علاقوں میں دو پلوں اور ڈونیٹسک میں ایک لاجسٹک کراسنگ کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ روسی فوج کی رسد اور نقل و حرکت کو متاثر کیا جا سکے۔
یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق جون کے دوران اس کی افواج نے 11 آئل ریفائنریز، ایندھن کی ترسیل سے متعلق تنصیبات، فوجی فیکٹریوں اور دیگر اہم اہداف پر حملے کیے۔ دوسری جانب یوکرین کی سکیورٹی سروس (SBU) نے دعویٰ کیا کہ اس نے کریمیا میں ایک فضائی اڈے پر موجود روسی جنگی طیاروں کے ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا۔
یوکرین کا روس پر حملہ ایسے وقت میں تیز کیا جا رہا ہے جب کیف روس پر فوجی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے صدر زیلنسکی نے روس کو جنگ ختم کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے 40 روزہ مہم کی منظوری دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔