مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث کئی ممالک میں موجود امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور ممکنہ طور پر خطہ چھوڑنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی مشرق وسطیٰ سفری انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو رہی ہے۔
امریکی مشنز کی جانب سے اردن، یروشلم اور بغداد میں جاری کیے گئے سیکیورٹی الرٹس میں شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ پروازوں کی معلومات چیک کریں اور مقامی حکام کی جانب سے جاری حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
ان انتباہات میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری مشکلات کے لیے تیار رہیں۔ حکام نے شہریوں کو صورتحال پر نظر رکھنے اور اضافی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
اردن میں موجود امریکی شہریوں کو امریکی فوجی اڈوں کا دورہ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ اسرائیل میں موجود افراد کو قریبی بم پناہ گاہوں کے مقامات سے آگاہ رہنے کا کہا گیا ہے۔
یہ انتباہات امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے نے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
ایران نے امریکا پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ امریکا کا ساتھ دینے والے ممالک بھی نتائج کا سامنا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب کئی ممالک صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی مشرق وسطیٰ سفری انتباہ خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باعث جاری کیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے مکمل انخلا کا حکم نہیں دیا، تاہم شہریوں کو ممکنہ خطرات کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور عالمی برادری خطے میں ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ سیکیورٹی حالات اور سفری انتظامات میں کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے۔