وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ میں لایا گیا تھا، تاہم ایران امریکا جنگ کے اثرات کے باعث اس میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے تمام اہم معاشی اشاریے مثبت رجحان ظاہر کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے ستمبر کا ہدف حاصل کرنے کے ساتھ پہلی سہ ماہی کا ٹیکس وصولی ہدف بھی پورا کیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق ملکی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور پائیدار استحکام کی جانب سفر جاری ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں سال کے اختتام تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی پلس تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نئی معیشت، مصنوعی ذہانت اور ویب تھری جیسے شعبوں پر بھی کام کررہی ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ بیرونی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کررہی ہیں۔ ان کے مطابق ترکیہ اور سعودی عرب کے سرمایہ کار بھی پاکستان میں مواقع تلاش کررہے ہیں، جبکہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کررہی ہے۔ حکومتی ترجیحات میں سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدات پر مبنی ترقی بھی شامل ہے۔
وزیر خزانہ نے سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کا رکنا نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ان کے مطابق ایک دن معیشت رکنے سے 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے، اس لیے سیاسی اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ تنخواہ دار اور کارپوریٹ طبقہ مسلسل بوجھ نہیں اٹھا سکتا، اس لیے اب مؤثر انفورسمنٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زرمبادلہ ذخائر کو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر قرار دیا، جبکہ پاکستان میں مہنگائی پر علاقائی صورتحال کے اثرات کا بھی ذکر کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کی 11.1 فیصد شرح سے کم ہے۔