کراچی: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے، جس کے بعد ملک میں اشیا کی ترسیل کے اخراجات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کیلئے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ برداشت کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں پانچ فیصد اضافے کا اعلان کیا۔
ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں بار بار اتار چڑھاؤ سے ٹرانسپورٹرز کیلئے اخراجات کا تخمینہ لگانا اور کرایوں کو مستحکم رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی یقین دہانی کے بعد ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر ہڑتال 40 روز کیلئے مؤخر کی تھی۔ حکومت نے مسائل کے حل کیلئے 40 دن کا وقت مانگا تھا، تاہم اب یہ مدت مکمل ہونے کے قریب ہے۔
صدر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے مطابق حکومت کی جانب سے مانگی گئی 40 روزہ مہلت آئندہ ہفتے ختم ہوجائے گی۔ مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد حکومت کے اقدامات اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے اثرات دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں کیونکہ خوراک، صنعتی مصنوعات اور دیگر سامان کی ترسیل کے اخراجات براہ راست مال برداری کے کرایوں سے منسلک ہوتے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔