نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو غیرحل شدہ چھوڑنے کے خطرات مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع کے دوران ایک بار پھر سامنے آئے۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حق خودارادیت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلے پر عالمی توجہ برقرار رکھنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی نے مسئلہ کشمیر کے علاقائی سلامتی پر اثرات کو نمایاں کیا۔ او آئی سی نے بھی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کو جموں و کشمیر کے تنازع کے حل سے جوڑا ہے۔
اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے اقدامات پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی اور سیاسی صورتحال کو متاثر کرسکتے ہیں۔ پاکستان ان اقدامات کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔
وزیر خارجہ نے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور دیگر افراد کو درپیش مبینہ پابندیوں کا بھی ذکر کیا۔ پاکستان عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں حالات کی نگرانی اور رسائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔
او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہوا۔ او آئی سی کے مطابق گروپ نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور خطے کی انسانی، انسانی حقوق اور سکیورٹی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔
مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دیرینہ تنازع ہے اور اقوام متحدہ اور او آئی سی میں سفارتی سطح پر زیر بحث رہتا ہے۔ پاکستان متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کے حل پر زور دیتا ہے، جبکہ بھارت جموں و کشمیر سے متعلق اپنا مؤقف رکھتا ہے۔