اردن نے ایرانی میزائل مار گرائے جب ملکی فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کی صبح ایران سے داغے گئے پانچ میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے۔ اردنی فوج کے مطابق اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان یا مالی نقصان نہیں ہوا، جبکہ تمام میزائل دفاعی حکمت عملی کے تحت بروقت روک لیے گئے۔
اردن کی فوج نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں کا بروقت سراغ لگایا اور انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ حکام کے مطابق کارروائی مکمل طور پر طے شدہ دفاعی منصوبے کے مطابق انجام دی گئی۔
بعد ازاں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اردن کے الازرق فضائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ یہ اڈہ امریکی طیاروں کے استعمال میں تھا اور کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
اردن نے ایرانی میزائل مار گرائے کی یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب امریکا نے ایران میں متعدد اہداف پر بھاری حملوں کی تصدیق کی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی، جس سے چند روزہ نسبتاً خاموشی ختم ہوگئی۔
حالیہ وقفے کے دوران سفارتی کوششیں دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر مرکوز تھیں۔ پاکستان نے بھی کہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق اردن کی جغرافیائی اہمیت اور وہاں موجود بین الاقوامی فوجی تنصیبات کے باعث ملک خطے کی بڑھتی ہوئی کشیدگی سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ مسلسل فوجی کارروائیاں پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
اردن نے ایرانی میزائل مار گرائے کی تازہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو اس تنازع کے مزید پھیلنے کے خدشات موجود ہیں۔