میر رضا قتل کیس

میر رضا قتل کیس: کاروباری شراکت دار اور ملازمین طلب

میر رضا قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور عدالتی کمیشن نے مقتول کے کاروباری شراکت دار اور ملازمین کو گواہ کی حیثیت سے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرلیا۔ کمیشن نے تمام متعلقہ افراد کو 15 ستمبر کو پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی ہے۔

طلب کیے جانے والوں میں احسن انیس شمسی بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ ان کی میر رضا علی کے ریسٹورنٹ وافلکس میں 30 فیصد شراکت داری تھی۔ ریسٹورنٹ کے منیجر شیری اور اکاؤنٹنٹ محمد عمیر خان کو بھی بیانات کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

کمیشن نے اسد علی بٹ اور عثمان بزئی کو بھی طلب کیا ہے، جن کے نام میر رضا علی کے کاروبار کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔ آسٹریلیا میں مقیم حسن تنولی کو بھی ای نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہیں زوم یا دیگر الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔

میر رضا قتل کیس 25 سالہ کاروباری شخصیت میر رضا علی کی موت سے متعلق ہے۔ ان کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ وہ ایک روز قبل لاپتا ہوئے تھے اور ان کے جسم پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا۔

کیس کی تفتیش ابتدا ہی سے مختلف سوالات اور تنازعات کا شکار رہی ہے۔ مقتول کے اہل خانہ نے تحقیقات کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ابتدائی طور پر حکام کی جانب سے خودکشی کے امکان کو بھی زیر غور لایا گیا تھا۔

بعد ازاں کراچی کی عدالت نے لاش کی دوبارہ تدفین سے قبل قبر کشائی کی اجازت دی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا۔ حتمی رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت سینے میں گولی لگنے سے ہوئی، جبکہ گولی کا داخلی زخم کمر اور خارجی زخم سینے کے سامنے کی جانب تھا۔ رپورٹ میں موت کے طریقہ کار کو خودکشی سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا گیا۔

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات اب عدالتی کمیشن کے سامنے جاری ہیں، جو مقتول کے کاروبار سے وابستہ افراد کے بیانات ریکارڈ کر رہا ہے۔ تازہ طلبی کا مقصد میر رضا کی موت کے حالات سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین