بنوں کواڈ کاپٹر حملہ میں منگل کے روز ایک شخص جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملہ بنوں کے بکاخیل کسٹمز علاقے میں کیا گیا، جہاں ایک کواڈ کاپٹر سے دھماکا خیز مواد گرایا گیا۔ بنوں کواڈ کاپٹر حملہ کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
ریجنل پولیس آفیسر رب نواز خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کیا۔ ان کے مطابق کواڈ کاپٹر سے گرایا گیا دھماکا خیز گولہ پھٹنے سے گل بہادر کے بیٹے خطیراللہ جاں بحق ہوگئے، جبکہ دیگر چار افراد زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق زخمیوں میں مقتول کا کم عمر بیٹا سیف اللہ، اصل جان، امیراللہ اور شاکر شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال بنوں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکام نے زخمیوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھنے کی بھی تصدیق کی۔
آر پی او نے بتایا کہ پولیس نے گزشتہ کئی حملوں کو اینٹی ڈرون گنز اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ذریعے ناکام بنایا تھا۔ پولیس اسٹیشنوں، چیک پوسٹوں اور حساس مقامات پر سکیورٹی مزید مضبوط کیے جانے کے بعد دہشت گردوں نے مبینہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
رب نواز خان نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بنوں پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل بنوں میں دو الگ دہشت گردی کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔ ایک واقعے میں سرکاری گرلز مڈل اسکول کو دھماکے سے نقصان پہنچایا گیا، جبکہ دوسرے واقعے میں جانی خیل کے ایک اہم پل کے نیچے نصب بم کو بروقت ناکارہ بنا کر ممکنہ بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعات خطے میں مسلسل خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔