روس کے یوکرین پر حملے جمعرات کو مزید شدت اختیار کر گئے، جن میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے۔ میزائل اور ڈرون حملوں نے کیف، کریوی ریہ، دنیپروپیٹرووسک، پولتاوا اور مغربی شہر لویو سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ پولینڈ نے اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے لڑاکا طیارے روانہ کر دیے۔
یوکرین کے بیشتر علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے اور دارالحکومت کیف میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ہنگامی اداروں کے مطابق کیف میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جبکہ متعدد غیر رہائشی عمارتوں میں آگ بھی لگ گئی۔
کریوی ریہ میں حکام نے بتایا کہ روسی اسکندر-ایم بیلسٹک میزائل ایک رہائشی علاقے پر گرا، جس کے نتیجے میں دو کمسن بچیوں سمیت چھ افراد جان سے گئے جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ دنیپروپیٹرووسک اور پولتاوا میں بھی مزید ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں۔
صدر وولودی میر زیلنسکی امریکا کے دورے سے واپسی پر کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹمز کے لائسنس فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے اتحادی ممالک کی فضائی دفاعی معاونت انتہائی اہم ہے۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں فوجی تنصیبات اور تین مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب یوکرینی حکام نے لویو سمیت مختلف شہروں میں متاثرہ رہائشی عمارتوں سے لوگوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔
روس کے یوکرین پر حملے کے اثرات ہمسایہ ملک پولینڈ تک بھی پہنچے۔ پولینڈ کی فوج نے فضائی حدود کے تحفظ کے لیے لڑاکا طیارے تعینات کیے، جبکہ سرحد کے قریب لوبلن کے علاقے میں ایک نامعلوم شے کے ملبے اور گڑھے کی بھی اطلاع ملی، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر یوکرین نے بھی روس کے اندر ڈرون حملے جاری رکھے۔ روسی حکام نے ایک بڑی آن لائن کمپنی کے گوداموں میں آگ لگنے اور سیکڑوں ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ روس کے یوکرین پر حملے اور جوابی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ اب بھی شدید مرحلے میں داخل ہے۔