سندھ گندم سبسڈی 2026

سندھ گندم سبسڈی 2026: کاشت کاروں کے لیے 4 ہزار روپے فی ایکڑ امداد

سندھ حکومت نے گندم کے کاشت کاروں کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے سندھ گندم سبسڈی 2026 کے نئے پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ نئے پیکیج کے تحت اہل کاشت کاروں کو 4 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

اس اسکیم سے 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے آبادگار فائدہ اٹھا سکیں گے۔ حکومت کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار کاشت کاروں کو اس پیکیج سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ بنیادی سبسڈی پروگرام کے لیے تقریباً 14.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اضافی امداد شامل ہونے کے بعد مجموعی رقم تقریباً 16 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

سندھ کابینہ نے محکمہ خوراک کو گندم فراہم کرنے والے کاشت کاروں کے لیے اضافی سبسڈی بھی بڑھا دی ہے۔ یہ رقم ایک ہزار روپے فی من سے بڑھا کر 2 ہزار روپے فی من کردی گئی ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ گندم خریداری کے عمل میں 56 ہزار سے زائد کاشت کاروں نے محکمہ خوراک کو گندم فراہم کی تھی۔

حکومت نے اہل کاشت کاروں کے لیے نئی رجسٹریشن شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ نئے درخواست گزاروں کی رجسٹریشن ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ پہلے سے رجسٹرڈ مستحقین کی دوبارہ تصدیق ہوگی۔ ڈیجیٹل نظام کا مقصد رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ مستحق افراد تک امداد کی بروقت فراہمی یقینی بنانا ہے۔

محکمہ زراعت کے مطابق سبسڈی کی رقم براہ راست اہل مستحقین تک پہنچائی جائے گی۔ حکومت ادائیگی کے عمل میں ڈیجیٹل ریکارڈ اور بینکنگ ذرائع استعمال کرے گی تاکہ شفافیت بہتر ہو اور کاشت کاروں کو رقم کے حصول میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کابینہ اجلاس میں دیگر اہم فیصلے بھی کیے گئے۔ مٹیاری اور سکھر کے منتخب دیہہ میں بلاک چین پر مبنی الیکٹرانک لینڈ ٹرانسفر سسٹم شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ پائلٹ منصوبے کا مقصد زمین کی ملکیت کی منتقلی کے عمل کو ڈیجیٹل بنانا اور انسانی مداخلت کو کم کرنا ہے۔

سندھ کابینہ نے کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں 13 منزلہ بلقیس و عبد الستار ایدھی میڈیکل ٹاور کی تعمیر کی بھی منظوری دی۔ 445 بستروں پر مشتمل اس منصوبے کی متوقع لاگت 17 ملین ڈالر ہے۔ اجلاس میں جامع اسپورٹس پالیسی، نوجوان پالیسی، اعلیٰ تعلیم میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور دیگر انتظامی معاملات سے متعلق فیصلے بھی کیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین