جنوبی کوریا ہرمز فوجی تعیناتی

آبنائے ہرمز میں فوجی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہوا: جنوبی کوریا

جنوبی کوریا نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی تعیناتی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ وزیر خارجہ چو ہیون نے جمعے کو ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات کی۔ یہ رابطہ ایسے وقت ہوا جب امریکا سیول پر ایران کے خلاف کارروائیوں میں شمولیت کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے۔

چو ہیون نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا ہرمز فوجی تعیناتی کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ سیول مسلسل محفوظ اور آزاد بحری آمدورفت کی حمایت کرتا رہا ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ چو ہیون نے خطے کی حالیہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کی امید بھی ظاہر کی۔

جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت یقینی بنانے کیلئے عالمی کوششوں میں شرکت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ سیول کا مؤقف ہے کہ تمام بحری جہازوں کو محفوظ گزرگاہ ملنی چاہیے۔ تاہم، حکومت نے ہرمز کیلئے فوجی اثاثے بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

یہ رابطہ ایران کی جانب سے جنوبی کوریا کو امریکی فوجی کارروائیوں میں شامل نہ ہونے کی تنبیہ کے بعد ہوا۔ گزشتہ چند دنوں میں سیول نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ فوجی تعیناتی سے متعلق فیصلہ نہیں ہوا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد چو ہیون اور عباس عراقچی چھ مرتبہ بات کر چکے ہیں۔

جنوبی کوریا امریکا کا معاہداتی اتحادی ہے اور امریکی صدر کے مطابق وہاں تقریباً 39 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ اس صورتحال میں سیول کو اپنے اتحادیوں کے مطالبات اور علاقائی مفادات میں توازن رکھنا ہوگا۔ ہرمز سے متعلق فیصلہ بھی اسی وسیع سفارتی اور سکیورٹی صورتحال میں اہم ہے۔

آبنائے ہرمز کے علاوہ جنوبی کوریا کو یوکرین کیلئے فوجی سازوسامان فراہم کرنے کے مطالبات کا بھی سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا سیول سے پیٹریاٹ میزائل نظام کے مقامی متبادل یوکرین کو دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تاہم، جنوبی کوریا ہرمز فوجی تعیناتی پر فی الحال کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچا۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین