سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ پاکستان کی طویل مدتی آبی، غذائی، توانائی اور معاشی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے سندھ طاس آبپاشی نظام کے استحکام اور ملک کے آبی وسائل پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ایک مقامی انگریزی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں محمد سعید نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ 65 برس سے دنیا کے کامیاب ترین اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آبی معاہدوں میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے نے دریاؤں کے پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنا کر پاکستان کی آبی ترقی، زراعت اور پن بجلی کے شعبوں کی مضبوط بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ اسی معاہدے کے تحت دستیاب پانی نے پاکستان کو دنیا کا سب سے بڑا مربوط سندھ طاس آبپاشی نظام قائم کرنے میں مدد دی۔ اس نظام میں تین بڑے آبی ذخائر، چھ بیراج، بارہ لنک نہریں اور وسیع نہری نیٹ ورک شامل ہے، جو تقریباً ساڑھے تین کروڑ ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے اور ملک کی 90 فیصد سے زیادہ غذائی پیداوار کا انحصار اسی پر ہے۔
واپڈا چیئرمین کے مطابق بھارت کی جانب سے مئی 2025 میں سندھ طاس معاہدہ مؤثر طور پر معطل کرنے کے اعلان نے پاکستان کے آبی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام یکطرفہ ہے اور بین الاقوامی معاہدوں اور مشترکہ آبی وسائل سے متعلق اصولوں سے متصادم سمجھا جا رہا ہے۔
محمد سعید نے مزید کہا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر مختلف نئے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے، جن میں رنبیر کینال کی توسیع اور چناب-بیاس لنک ٹنل شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان منصوبوں کے مجموعی اثرات پاکستان میں آنے والے پانی کی مقدار، وقت اور تسلسل کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے معاہدے کے باوجود مغربی دریاؤں سے متعلق ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی بھی روک دی ہے، جس سے پاکستان کی سیلاب کی پیش گوئی، آبی انتظام اور ہنگامی تیاری متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق بروقت معلومات نہ ملنے سے انسانی جانوں، انفراسٹرکچر، زراعت اور معیشت کو زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ کے تناظر میں محمد سعید نے دریائے چناب کو پاکستان کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کسی ایک ڈیم یا منصوبے کا نہیں بلکہ متعدد بالائی منصوبوں کے مجموعی اثرات کا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے آبپاشی نظام، زرعی پیداوار، آبی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے دریاؤں کے قابلِ اعتماد اور متوقع بہاؤ کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔