ایف بی آر فاسٹر ریفنڈ سسٹم

ایف بی آر کے فاسٹر ریفنڈ سسٹم میں خامیوں کا انکشاف

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے فاسٹرسیلز ٹیکس ریفنڈ سسٹم میں اہم خامیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس پر وفاقی ٹیکس محتسب نے ٹیکس اتھارٹی کو فوری اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب ظفر حجازی نے ایک کمپنی کی جانب سے دائر شکایات پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فاسٹر ریفنڈ سسٹم میں موجود تکنیکی خامیاں برآمد کنندگان کو متاثر کر رہی ہیں اور خودکار ریفنڈ نظام کی مؤثر کارکردگی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ موجودہ نظام کمرشل ایکسپورٹ گڈز ڈیکلریشن اور غیر تجارتی نمونہ جاتی برآمدات (سیمپل ایکسپورٹس) کے درمیان درست فرق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے نتیجے میں بعض جائز سیلز ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر یا دیگر انتظامی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، جس سے برآمدی شعبے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وفاقی ٹیکس محتسب نے قرار دیا کہ خودکار ریفنڈ سسٹم کا بنیادی مقصد برآمد کنندگان کو بروقت اور شفاف انداز میں ریفنڈز کی ادائیگی یقینی بنانا ہے، تاہم موجودہ خامیاں اس مقصد کے حصول میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ سسٹم کا جامع تکنیکی جائزہ لیا جائے اور ایسی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جن سے مختلف اقسام کی برآمدات کی درست شناخت ممکن ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق برآمد کنندگان کے لیے بروقت ٹیکس ریفنڈز نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل بلکہ ملکی برآمدات کے فروغ کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ جدید اور مؤثر ڈیجیٹل نظام سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

فی الحال ایف بی آر کی جانب سے اس فیصلے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ وفاقی ٹیکس محتسب کی ہدایات کی روشنی میں فاسٹر ریفنڈ سسٹم میں ضروری تکنیکی تبدیلیاں اور اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کم کیے جا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین