یمن کے حوثیوں نے سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارب صوبے کی فضائی حدود میں سعودی ایف 15 طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ طیارہ سعودی فوجی کارروائیوں کے دوران نشانہ بنا۔
یحییٰ سریع کے مطابق سعودی ایف 15 طیارے کو مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے سعودی عرب پر سینکڑوں حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ تاہم طیارہ گرائے جانے کے دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
حوثی ترجمان نے رواں ہفتے مقدس شہر مکہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے کو بھی مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا ہدف تیل تنصیبات اور فوجی اڈے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مقامات مقدس مقامات سے کافی فاصلے پر واقع ہیں۔
یمن میں جولائی میں خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد حوثی گروپ اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ تازہ کشیدگی نے ملک کے مختلف علاقوں میں صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ تنازع میں کئی مسلح فریق شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا ہے اور بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کی ہیں۔ گزشتہ ہفتے حوثیوں نے ایک تیز فوجی کارروائی کے بعد یمن کے بحیرہ احمر کے مکمل ساحلی علاقے اور باب المندب آبنائے پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم بحری راستہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں جاری وسیع علاقائی کشیدگی کے باعث اس راستے کی اہمیت سعودی تیل کی برآمدات کیلئے مزید بڑھ گئی ہے۔ ان اہم بحری راستوں کے قریب مسلسل کشیدگی سے خطے کی تجارت اور توانائی کی نقل و حرکت متاثر ہوسکتی ہے۔
حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی اور بحری کشیدگی جاری ہے۔ ایف 15 طیارے کے واقعے، مکہ سے متعلق الزامات اور اہم بحری راستوں کی صورتحال پر فریقین کے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ واقعے کی مکمل صورتحال جاننے کیلئے مزید معلومات اور آزادانہ تصدیق ضروری ہوگی۔