اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں مکانات مسمار کر دیے جبکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کے فریم ورک معاہدے پر عملدرآمد بدستور سوالات کی زد میں ہے۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کے روز سرحدی قصبے عیترون میں کئی گھروں کو دھماکوں سے تباہ کیا گیا، جبکہ ہولا میں بھی ایک زور دار دھماکا کیا گیا۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی فوج نے عیترون میں متعدد رہائشی مکانات کو دھماکوں سے منہدم کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ضلع مرجعیون کے قصبے ہولا میں بھی رات کے وقت ایک دھماکا کیا گیا، تاہم اس کارروائی کا ہدف واضح نہیں کیا گیا۔
ان کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی ڈرونز کی پروازیں بھی جاری رہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مسلسل فضائی نگرانی نے علاقے میں کشیدگی اور خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ پیش رفت 26 جون کو امریکا کی سرپرستی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے باوجود سامنے آئی، جس کے تحت اسرائیلی افواج کو مرحلہ وار لبنانی علاقوں سے انخلا کرنا تھا۔ معاہدے میں ابتدائی طور پر دو مخصوص علاقوں سے فوجی واپسی کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔
لبنانی حکام اور مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیاں جنگ بندی کے مؤثر نفاذ پر سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق بار بار کی فوجی سرگرمیاں سرحدی علاقوں میں استحکام کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 4,300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں اب بھی موجود ہیں، جن میں کچھ علاقے برسوں سے ان کے قبضے میں ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں مکانات مسمار کر دیے اور اس پیش رفت نے ایک بار پھر خطے میں امن کوششوں اور جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پائیدار امن کے لیے معاہدوں پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہوگا۔