اسرائیلی وزیر دفاع کی ایرانی قیادت کو دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب تہران میں ایران کے مرحوم سپریم لیڈر کی آخری رسومات جاری ہیں اور مشرق وسطیٰ میں سیاسی و عسکری کشیدگی برقرار ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو اس منصوبے کی وجہ سے نشانہ بنایا جس کا مقصد اسرائیل کو نقصان پہنچانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی ایرانی رہنما اسی نوعیت کی پالیسیاں اختیار کرے گا تو اسرائیل اس کے خلاف بھی کارروائی کر سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے ان بیانات کو سخت اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے فوری ردعمل کی وارننگ دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی قیادت یا عوام کے خلاف کسی بھی دھمکی کا فوری اور بھرپور جواب دے گا۔ ان کے مطابق ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات صرف اسی صورت مفید ہیں جب وہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے بنیادی مفادات کا تحفظ کریں۔
قالیباف نے یہ بھی کہا کہ لبنان میں پائیدار امن ایران کے کردار کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو اہم موضوع بنایا، جبکہ انہوں نے حزب اللہ کے کردار کو بھی سراہا۔
اسی دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج نے عیترون میں متعدد مکانات مسمار کیے اور ہولا میں دھماکا کیا، جبکہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مرحلہ وار فوجی انخلا پر بات چیت بھی جاری ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کی ایرانی قیادت کو دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفارتی اور عسکری صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے خطے کی سلامتی اور سیاسی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔