پاکستان نے اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں نے یمن کے تنازع کو انتہائی خطرناک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے کشیدگی روکنے کیلئے فوری سفارتی کوششوں پر زور دیا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یمن میں حوثیوں کی فوجی کارروائیوں، سعودی عرب پر حملوں اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں تازہ پیش رفت نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے باب المندب آبنائے کے اطراف بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستانی نمائندے کے مطابق اس اہم بحری گزرگاہ کے اطراف حملوں میں اضافہ سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے آزادانہ بحری آمدورفت، عالمی تجارت، سپلائی چین اور توانائی کی سلامتی متاثر ہوسکتی ہے۔
Pakistan condemns, in the strongest terms, all Houthi attacks against the Kingdom of Saudi Arabia. Yesterday, Prime Minister Mohammed Shahbaz Sharif, in his conversation with His Royal Highness Crown Prince Mohammed bin Salman, reiterated Pakistan’s strong condemnation of these… pic.twitter.com/jHuhtvF7zl
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) September 15, 2026
عاصم افتخار نے کہا کہ یمن میں 2022 سے برقرار نسبتاً پرسکون صورتحال اب ختم ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل کشیدگی سے مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے اور یمن کے وسیع علاقائی تنازع میں مزید الجھنے کا خطرہ ہے۔ پاکستان نے سفارت کاری کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جامع اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کی۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور چین نے بھی تحمل اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ چین نے فریقین سے مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل کی اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو اہم قرار دیا۔ امریکا نے حوثیوں سے پیش قدمی اور حملے روکنے کا مطالبہ کیا جبکہ ایران پر حوثیوں کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا۔
سعودی عرب نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ کشیدگی سے یمن، علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور سپلائی چینز کو خطرات لاحق ہیں۔ یمن کے نمائندے نے بھی مغربی ساحل اور باب المندب کے قریب صورتحال کو علاقائی اور عالمی سلامتی کا بڑا مسئلہ قرار دیا۔ دیگر ممالک نے بھی بحری تجارت اور انسانی صورتحال پر ممکنہ اثرات کی نشاندہی کی۔
اقوام متحدہ کے مطابق باب المندب کے اطراف صورتحال حالیہ دنوں میں مزید غیر یقینی ہوئی ہے، تاہم اس کی بریفنگ کے وقت بحیرہ احمر سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوئی تھی۔ عالمی ادارے نے تمام فریقوں سے شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور متاثرہ علاقوں تک محفوظ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔